ثقافت

Images

. یہاں کے لوگ دو زبانیں پشتو اور ہند کو بولتے ہیں لیکن پشتو ہی زیادہ تر بولی جاتی ہے. جو لوگ ہندکو بولتے ہیں وہ پشتو بھی بول سکتے ہیں. مساجد میں درس قران، مساجد میںاعلانات یا مارکیٹ میں خریداری کے وقت صرف پشتو ہی بولی جاتی ہے لیکن جن محلوں میں ہندکو بولنے والے ہوتے ہیں وہاں ہندکو زبان ہی بولی جاتی ہیں.

Images

تقسیم ہند تک یہاں ہندوؤں کی ایک قلیل مگر اثر و رسوخ رکھنے والی تعداد بھی موجود تھی. تجارت اور دوکانداری ان کے ہاتھوں میں تھی. وہ گاؤں کے مرکزی با زار جو کہ اب پرانے بازار کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کےدونوں اطراف دو منزلہ عمارات میں رہائش رکھتے تھے . نیچے والے منزل میں ان کی رہائش اور اوپر گھر ہوتے تھے. ان میں اعلی معیار کی لکڑی استمال کی گی تھی. ان عمارات میں سے بعض ابھی بھی موجود ہیں اور بعض گراۓ گیۓ ہیں. ان کی اپنی ایک جگہ تھی حجرے کے طور پر اور وہاں وہ غمی شادی کے مواقع پر اکھٹا ہوتے تھے. ان کے مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے. ان کا اپنا ایک مندر بھی موجود تھا اور مردوں کو جلانے کے لئے بھی ایک جگہ ان کی موجود تھی.
یہمارے ہاں جو باجی، کاکا جی، لالہ جی،بابو جی وغیرہ جیسے نام موجود ہیں ان پر ہندوؤں کی ایک واضح چھاپ دکھائی دیتی ہیں. ان ہندوؤں میں سے بعض نے بعد میں دین اسلام بھی قبول کر لیا تھا. وہ جب یہاں سے ہندوستان کی طرف جا رہے تھے اور لاریاں ان کو لے جانے کے لئے آ ئی تھیں تو وہ اپنے وطن چھوڑنے پر کافی دلگیر تھے اور وہ روتے رہے. پتہ نہیں وو ہندوستان میں اب کہاں آباد ہونگے. ہمیں بڑی خوشی ہوگی اگر وہ یا ان کی اولاد اس ویب سائٹ کو پڑھیں اور ہمارے ساتھ اپنے جذبات شیر کریں. ہم یقینا ان کے بڑ ے مشکور ہونگے.

Images

عید کی تہوار

تور ڈھیر کے عوام مذہب سے گہرا لگاو رکھتے ہیں اور وہ احکا م الہی بجا لانے کے پابند ہیں اور وہ باقاعدگی کے ساتھ روزے رکھتے ہیں. رمضان کےدوران ان کی زندگیوں کا ہررخ متا ثر ہوتا ہے . رمضان سے پہلے ہی مساجد میں درس شروع ہو جاتے ہیں رمضان بھر جاری رہتے ہیں . لوگ پہلے سے زیادہ تلاوت قرآن پاک کرتے ہیں اور مساجد کے اندر نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہیں. رمضان کے اندر بازاروں میں خرید و فروخت تیز ہو جاتی ہیں اورخصوصاً دن کے دوسرے حصّے میں گھما گہمی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے .
بازار میں مختلف جگہوں پرکئی ایک جانور ذبح کئے جاتے ہیں کیونکہ رمضان کے دوران گوشت کا استمعال بڑھ جاتا ہے. مشہور قصا ب ہے خاروگے کے ہاتھ کا گوشت لوگ بہت پسند کرتے ہیں. ان کے ساتھ بیٹھے ہوۓ مراد علی کاکا کے ہاتھ میں بھی بڑی لذت موجود بتائی جاتی ہے. اس کے علاوہ بھی کم از کم درجن بھر قصاب ذبیحے کرتے ہیں. ان قصابوں کی د کانیں تور ڈھیر کے سے لے کر میاں گان محلے، اور کونسل کے ساتھ بازار اور پھر اڈے میں مختلف مقامات پر موجود ہیں. سینی چوک میں بھی رمضان کے اندر صادق کاکا اس میدان میں ایک نئے سرے سے اتر آتا ہے اور لوگوں کو اچھی گوشت فراہم کرتا ہے.

رمضان کے دوران ٹیلرز کی دکانوں پر رش

رمضان کے دوران درزی اور ان کے شاگرد خصوصی طور پر اپنے کام کپڑے بنانے میں مشغول ہوتے ہیں. گرد و نواح کے گاوؤں سے بھی لوگ ان درزیوں پر کپڑے بناتے ہیں

Images

مشروبات کا استمال

گرمیوں کے موسم میں رمضان کے آنے کی وجہ سے اب افطاری کے دوران مشروبات کا خصوصی طور پر استعمال کرتے ہیں . اس کے لیے وہ مقامی منگل بازار یعنی میلہ مویشیاں سے خصوصی طور پر گڑ لاتے ہیں کیونکہ اس کا شربت ٹھنڈا تصور کیا جاتا ہے. اس لے علاوہ جوسز کا بھی کافی استعمال ہوتا ہے.

تربوزوں اور خربوزوں استعمال

تور ڈ ھیر کے مضافاتی میں قسم کے خربوزے کاشت کئے ہیں جسے لوگ مارکیٹ میں بھیجتے ہیں اور اس کی بڑی مقدار کے کو بھی بھیجی جاتی ہیں.

رمضان کے دوران فروٹس شاپ کا قیام

رمضان کے دوران فروٹس کی بہت سارے فروٹس شاپس قائم ہو جاتے ہیں اور ریڑھیوں والے بھی یہ بھیجتے ہیں

عید الفطر کی آمد

عیدالفطرعام طور سے مقامی شہادتوں کی بنیاد پر منایا جاتا ہے نہ کہ سرکاری اعلان کے مطابق. یہی حال پشاور چار سدہ، کوہاٹ وغیرہ کا بھی ہوتا ہے اور یوں حکومت سے ایک دن پہلے عید منا لی جاتی ہے

Images

عید کے موقع پر تور ڈ ھیر کے عوام مختلف طریقوں سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں. عید صبح ہر طرف لاؤڈ اسپیکرز پر نعتیں اور تلااوتوں کی گونج سنائی دیتی ہے. مرد حضرات صبح نماز عید اپنی نزدیکی جامع مسجدوں میں یا پھر ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں ادا کرتے ہیں. اسی نماز میں ہی عید کی اصل خوشی موجود دکھائی دیتی ہے. چھوٹے بڑے نے نئے کپڑے زیب تن کیے. اور خوشگوار اور معطر ہوتی ہے. نماز کے بعد لوگ گلے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں. اس کے بعد لوگ لوگ جلدی جلدی گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں. عید الاضحی کےدن تو لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہیں کیونکہ قربانی بھی کرن ہوتی ہے.
رمضان کے روزے ختم ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو مزہ ہوتا ہے تو دوسری طرف اس کی برکتوں کی کمی بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے. لوگ اس دن نئے کپڑے پہنتے ہیں اور رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہیں. چھوٹے بچے اپنی ماوؤں کے ساتھ اپنی نانی جان کے گھر جا کر خوب لطف اڑاتے ہیں. لوگ عید کے دنوں میں اپنے بزرگوں کی قبروں پر بھی جاتے ہیں اور وہاں ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور قبر پر اگربتیاں جلاتے ہیں. اس دوران وہ بچوں کو ٹافیاں وغیرہ بھی دے جاتے ہیں. لوگ فوتگی والے گھروں میں بھی دعا کے لیے جاتے ہیں. نوجوان لڑکے ٹولیوں کی شکل میں واقع کنڈ پارک, الہ ڈھیر دریا، تازہ گل دریاب وغیرہ جاتے ہیں اور وہاں دریای اباسین کی پانیوں میں نہاتے ہیں.

Images

عیدالاظہی

تور ڈھیر کے عوام باقی ملک اور امّت مسلمہ کے ساتھ ،عیدالفطر کے دو ماہ دس دن بعد دوسری عید جسے یہاں "لوئ اختر"کہتے ہے، مناتے ہیں. یہ ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے. یہ عید چھوٹی عید کے برعکس حکومت کے ساتھ منائی جاتی ہے.صاحب استطاعت لوگ اپنے رشتہ داروں پڑوسیوں کے ساتھ گروہ بناتے ہیں اور مشترکہ قربانی کرتے ہیں. بیل، گائے ، بھینس سانڈھ وغیرہ ذبح کرتے ہیں. انفرادی قربانیوں کا رجحان یہاں بہت کم ہے. بکریاں اور بھیڑ کم تعداد میں ہی ذبح کیے جاتے ہیں.
رجانوروں کی خرید وہ فروخت کے لیے عید دن قبل ہی میلہ مویشیاں لگا یا جاتا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد وہاں کا رخ کرتی ہے اور خریداری کرتی ہے. اس میلے میں قرب و جوار کے لوگ جانور لاتے ہیں جبکہ باہر سے بھی کچھ سودا گر آتے ہیں. اس کے علاوہ شید و کا میلہ بھی تور ڈھیریوں بڑی تعداد میں اپنی طرف راغب کرتا ہے اور وہاں بھی بڑی خریداری ہو جاتی ہے. شید و میلے کا جای مقام کچھ ایسا ہے کہ جی ٹی روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو پنجاب سے یہاں جانور لائے جاتے ہیں تو دوسری طرف پشاور اور نوشہرہ صوابی کی گا وؤں سے بڑ ی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں. اس مقام پر بڑی گہما گہمی ہوتی ہے

Images

اور لوگ اپنے پسند کی جانوروں کی تلاش میں پھرتے ہیں.یہ میلہ شیدو کے اس طرف شاہ افضل فوڈ فیکٹری سے لے کر دوسری جانب ایدھی دفتر تک پھیلا ہواہوتا ہے. جب شام کا وقت ہو جاتا ہے تو تور ڈھیر کے عوام بھی اپنی ٹرالیوں میں خریدے گئے جانوروں کو واپس لاتے ہیں. شید وگاؤں تور ڈھیر سے کچھ ١٢-١٣ کلومیٹر کے فاصلےپر واقع ہے. پہلے لوگ گاؤں کو جاتے تھے. یہ گاؤں میاں عیسی گاؤں کےسامنے بالکل سامنے دریائ کابل کے دوسری جانب واقع ہے. دونوں گاوؤں لے لوگ کشتیوں کے ذریعے آتے جاتے رہے ہیں. ایک دفعہ اس طرح بارات کی کشتی ڈوب گئی جس میں لوگ جاں بحق ہو گئے تھے. اس کی بازگشت تور ڈھیر کہانیوں میں بھی ملتی ہے کیونکہ وہ اس بڑے سانحے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے. تور ڈھیرکے لوگ شید و جانے کے لیے میاں عیسیٰ کا راستہ اختیار کرتے تھے جو کہ لوڑو، کھودرو اور بادو بابا سے ہو کر جاتا ہے. یہ راستہ آگے نندرک-مغلکی و مصری بانڈہ گاوؤں بھی جاتا ہے جہاں سے ایک راستہ تور و مآ یار اور مردان کی طرف جاتا ہے تو دوسری طرف پیر سبا ق اور رسالپور کی طرف. تور ڈھیر کے عوام عید الاضحی کے نماز عید پڑھنے کے فوری بعد اپنے گھروں کی طرف واپس آ جاتے ہیں اور قربانی کا اہتمام کرتے ہیں.
انہوں اس مقصد لیے پہلے ہی سے چھریاں تیار رکھی ہوتی ہیں.جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال اتار دی جاتی ہے پہلے کلیجی اور دوسرے نازک اعضاء دیے جاتے ہیں. اور ان کو کے بعد ہیں اور پہلے جاتا ہیں سو داپھر کو لوگ اس سے ہوتے ہیں. اس کے بعد ہڈیاں اور گوشت کی دوسری اقسام تقسیم کر دی جاتی ہیں. لوگ زہر کی نماز سے پہلے پہلے ہی اس اہم فریضے سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں.
اس کے بعد لوگ کپڑے تبدیل کر دیتے ہیں اور عید کی سرگرمیاں ایک بار پھر شروع ہو جاتی ہیں. قربانی کے دوران ہی کھال ایجنٹ شروع ہو جاتے ہیں اور کھال خریدتے ہیں. سینی بازار میں کھالوں کی کئی دوکانیں کھل جاتی ہیں جہاں سے یہ پھر قصور لاہور کی طرف سپلائی کی جاتی ہیں. اسطرح خوشیوں بھرے ماحول میں عید الاضحی منائی جاتی جاتا ہے.

Images

بادرو کا میلہ

پرانے زمانے ہی سے اٹک ڈسٹرکٹ کے مقام حضرت جی بابا میں اگست کے مہینے میں، دریا اباسین کے کنارے ایک میلہ لگایا جاتا ہے، جس سے دور دراز تک کے لوگ بڑے لطف اندوز ہوتے ہیں. یہ دراصل ہندوؤں کے مہینوں کے بھادوں مہینے جسے لوگ بادرو کہتے ہے،میں منعقد ہوتا ہے. بادرو کا مطلب ہے "ہوا آھستہ" . اس مہینے کے کے بارے میں تور ڈھیر کے لوگوں کا مصمم خیال ہے کہ اس میں ہوا چلنا بڑا نایاب ہوتا ہے. تور ڈھیر کا اپنا محل وقوع ہی کچھ ایسا ہے کہ ہر طرف سے اس کے اس سے اونچائی پر واقع ہے . یہ کھلی جگہ ہرگز نہیں.اسلئے یہاں کھلی ہوایئں نہیں چلتی لیکن شہباز کی زمینوں کا حال اس سے مختلف ہے وہاں زمینوں کی اونچائی زیادہ ہے اور دریاۓ اباسین سے فاصلہ بھی کم ہے جس کی ٹھنڈی پانیوں سے ٹکرانے والی ہوایئں یہاں چلتی رہتی ہیں اور یوں موسم خوشگوار ہوتا ہے.
اسطرح شمال میں جلبئی یا پھر میاں عیسی کا طرف بھی چونکہ زیادہ اونچائی پر واقع ہے اسلئے وہاں بھی ہوا چلتی ہے اور موسم نسبتاً خوشگوار ہوتا ہے . بھادوں کے اس مہینے میں جس میں اٹک کا یہ میلہ لگایا جاتا ہے، کے بارے میں یہ ضرب المثل بھی کہا جاتا ہے کہ " بادرو چہ گڑ ا ند ی شی نو دہ پشکالہ واراند ی شی " مطلب اس کا یہ ہے کہ جب بھادوں کے مہینے میں بعض اوقات بارشیں برسنا شروع ہو جاتی ہیں تو پھروہ پشکال(ساون) کے مہینے سے بھی آگے نکل جاتی ہے . اور یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے. بدرو کا یہ میلہ دو تین دن تک جاری رہتا ہے.اس میں قسم قسم کے اشیا کے سٹالز لگایے گئے ہوتے ہیں اور بچوں بڑوں کے کے لیے مختلف قسم کا سامان دستیاب ہوتا ہیں. وہاں سرکس بھی ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ جھولے وغیرہ بھی ہوتے ہیں. خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس میں دونوں اطراف کے لوگ ہوتے ہیں.
تور ڈھیر کے عوام اس میلے کے بڑے دلدادہ آتے رہے ہیں . چونکہ یہ تور ڈھیر سے کچھ زیادہ دور نہیں بیچ میں صرف دریاۓ اباسین بہتا ہے اسلئے پہلے وقتوں میں یہاں لوگ پیدل بھی جاتے تھے اوردریا کشتی میں پار کرکے دوسری طرف میلے میں چلے جاتے تھے. روڈ کے ذریعے جہانگیرہ اور خیرباد سے بھی رستہ جاتا ہے اور لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑی تعداد میں جاتے ہیں . یہ میلہ رات کے وقت بھی جاری رہتا ہے اور لوگ یہاں عام طور سےدیر ہی سے جاتے ہیں تاکہ وہاں رات کے وقت خوشگوار موسم میں محظوظ ہو سکیں. گزرے برسوں میں جب یہ ،میلہ گزر جاتا تھا تو پھر گلی کوچوں میں اس کی نشانیاں بھی دیکھنے کو ملتیں. جیسے کہ بچوں کی مخصوص ٹوپیاں، بانسریاں وغیرہ حالات بدل گئے ہیں. ایک طرف تو لوگوں کی ان چیزوں کی طرف رغبت بھی کم ہو گئی ہیں اور اس کے علاوہ یہ چیزیں اب ہر جگہ دستیاب بھی ہوتی ہیں اس لیے اس پہلے نہیں ہے اور بادرو میلے کا اسطرح پتہ نہیں چلتا. اس میلے کے ساتھ لوگوں کی بہت جذباتی وابستگی رہی ہیں اور یہی حال دوسرے قریبی گاوؤں کے لوگوں کا بھی ہوگا. اس میلے کی اصل تاریخ کا توہمیں علم نہیں لیکن کم و بیش دو تین نسلوں کے لوگوں سے اس کا ذکر سنا گیا ہے.

Images

بعض اوقات میلے میں یہ شرکت نقصان کا سبب بھی بن جاتی. کئی دفعہ لوگوں کو سانپوں نے بھی کاٹا کیونکہ یہ گرمیوں کا موسم ہوتا ہے اور لوگ وہاں رات کے وقت ادھر ادھر سو جاتے ہیں تو اسطرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں . بعض لوگ دریا میں بھی ڈوب گئے کیونکہ ان دنوں دریا کا پانی کافی صاف ہوتا ہے اور لوگ اس میں گرمی دور کرنے کے لیے اس میں نہاتے ہیں جو کہ خطرے سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ یہ جگہ نہانے کے لیے کچھ موزوں جگہ نہیں.
گزرے وقتوں کے بارے میں ہم سنتے آ رہے ہیں کہ نوجوان بڑےسب اس میلے کے لیے جمع کرتے تھے تاکہ وہاں پھر اپنی پسند کی چیزیں سکیں. اس میلے کے قتلمے اور حلوہ بہت مشھور ہے. لوگ اس سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں. راقم نے ٢٠٠٨ میں اس میلے میں کت کی تو اسے تور ڈھیر کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والیں بہت آئے جو کہ وہاں اپنا دل بھلا رہے تھے. حالت بہت بدل گئے ہیں لیکن اس میلے کی اپنی حیثیت بڑی اب بھی بحال ہیں اور لوقوں میں اب بھی یہ مقبول ہے. آج سے تقریباً دو قبل جب میلے کے مقام کے نزدیک ہی اٹک کے نئے پل کی رہی تھی تو اس میلے میں چینی لوگ مرد و عورتیں بھی اس میلے میں دیکھنے کوملتے.