اباسین کے ساتھ تورڈھیر کے لوگوں کی وابستگی

Images

جنوب میں تقریباً تین چار کلومیٹر کےفاصلے پر دریاۓ اباسین بہتا ہے. تور ڈھیر اگرچہ اس دریا کے بالکل کنارے پر تو واقع نہیں ہے لیکن پھر بھی یہاں کے باسیوں کو اس سے قسم کی وابستگی ہے وہ اس دریا کو اپنا سمجھتے ہیں. وہ یہ حقیقت کم ہی ذھن میں رکھتے ہونگے کہ یہ دریا تو دراصل تبت کشمیر ، گلگت اور کشمیر اور پھر کوہستان بٹگرام، مانسہرہ کی حدود سے ہوتا ہوا آخر کار یہاں پہنچ جاتا ہے اور یہ دریا پھر ان کا بن جاتا ہے اور ان علاقوں کے اتنے سارے لوگ اس دریا کو اپنا سمجھتے ہیں.
الہ ڈھیر کے دریا کا کنارہ تور ڈھیرکے عوام کا مشہورسیر و تفریح کا پوائنٹ ہے جہاں پر تور ڈھیر کے لوگوں کے علاوہ جلبئی ، چونتری، جہانگیرہ وغیرہ کے لوگ، خصوصاً گرمیوں کے موسم میں، اور یہاں دریا میں نہانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں. اس پوائنٹ کے علاوھ بھی روزی آباد جبر کے سامنے دریا کا کنارہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے. بازار گاؤں کے سامنے واقع سین بھی لوگوں میں بڑی مقبول ہے. اس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر حکومت کی طرف سے بنائے گئے کمرے جو کہ "ماجد کوٹے" کے نام سے مشھور ہیں واقع ہے.

Images

وہاں بازار کے سامنے دریاۓ اباسین کی کیفیت یہ ہے وہ ایک سالم دھارے کی شکل میں بہتا ہے جبکہ تھوڑا سا آگے روزی آباد، جبر اور الہ ڈھیر کےسامنے دریا کا مجموعی پاٹ کافی چوڑا ہو گیا ہے. مرکزی دھارا جنوب کی جانب مڑ کر چلا جاتا ہے جبکہ اس دوران کئی دھارے اس بڑے دھارے سے جدا ہوتے ہیں. اس طرح الہ ڈھیر گاؤں کے ساتھ بہنے والے اور اس مرکزی دھارے کے بیچ کئی دھارے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان والی جگہوں میں کاشتکاری بھی کی جاتی ہے. جو آباد ہیں وہاں مختلف قسم کے جانور اور پرندے بھی پائے جاتے ہیں. مرکزی دھارے کے علاوہ تقریباً سب دھارے ستمبر سے کر اپریل تک خشک ہوتے ہیں. پہلے اس درمیانی زمینوں میں کثیر تعداد میں شیشم وغیرہ کے درخت پائے جاتے تھے لیکن ٢٠٠٩-٢٠١٠ میں وہ کاٹ دیے گئے. ان زمینوں پر الہ ڈھیر والوں کا دریا کے پار گاؤں ملا منصور گاؤں کے ساتھ تنازعہ بھی چلا تھا.