مذہبی جوش وخروش

Images

تور ڈھیر کے عوام دین اسلام کے ساتھ محبت رکھتے ہیں. یہاں تقریباً ساٹھ ستر کے قریب مساجد ہیں. یہاں دینی تعلیم کے کچھ مدرسسے بھی چلا ۓ جا رہے ہیں. ان میں سب سے اہم"دارالعلوم مظہرالاسلام " ہے جو کہ یہاں ١٩٥٧ میں قائم کیا گیا . اس کی بنیاد صوبے کے مشہور علماء دیو بند جیسے مولوی غوث بخش ہزاروی صاحب ، مولوی فقیر محمّدصاحب وغیرہ نے رکھی . یہ مدرسہ محلّہ سینی سے پرانے بازار کی طرف چند قدم کے فا صلے پر واقع ہے. اس مقام پر پہلے پھل ایک تالاب پائی جاتی تھی جسے لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے. ایک اور مدرسہ "اشاعت التوحید والسنه "جس کا قیام ١٩٦٩ میں عمل میں آیا تھا اب میاں عیسی راستے پر سڑک کے ساتھ واقع ہے. آج سے کچھ عرصہ پہلے یہاں طلبہ کی ایک کثیر تعداد دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے جس میں سے اکثریت افغان طلبا کی تھی لیکن نائن الیون کے واقعے کے بعد جب حالات بدل گئے تو اس مدرسے کی شان و شوکت بھی کم ہوتی چلی گئی . یہ مدرسہ ایک عرصے تک مولوی محمد رفیق صاحب عرف تنار شیخ صاحب کی زیر نگرانی میں چلا آ رہا تھا جن کا تعلق افغانستان کے ولایت کنڑ کے گاؤں تنار سے تھا اور جنہوں نے مختلف علاقں میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں تور ڈھیر میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی. موصوف ٢٠٠٣ میں اس دار فانی سے رخصت ہو گئے .مولوی رفیق صاحب کی درس میں ایک عجیب مزہ ہوتا تھا اور طلبہ ان کے درس کی طرف کچھے چلے آتے تھے. ایک نامصائب دور دیکھنے کے بعد ایک دفعہ پھر اس مدرسے کی رونقیں بحال ہوگئی ہیں اوراب دوبارہ طلبا کی تعداد بڑھ گئی ہیں .

Images

لاؤڈ سپیکر پر درس قرآن

گاؤں کے مختلف مساجد میں مولوی حضرات فجر یا عشا کی نماز کے بعد لاوڈ سپیکر پر درس قرآن کرتے ہیں جو لوگ گھروں میں بھی سن سکتے ہیں. مینار مسجد کی لاوڈ سپیکر کو تو بازار اور جبر گاوؤں میں بھی سنا جا سکتا ہے. فرخ سیار صاحب کی درس دور تک سنی جا سکتی ہے اور جب ہوا چلتی ہے اور لاؤڈ سپیکر کی آواز کی شدت میں اتار چڑھاو پیدا ہوتا ہے تو اس سے ایک عجیب کیفیت پیدا ہو جاتی ہے خصوصاً صبح کے وقت.

Images

مذہبی مجالس

تور ڈھیر کے مساجد میں اکثر اوقات ختم قرآن شریف یا دوسرے مواقعوں پر علماء اکھٹے ہوتے ہیں اور تقریر بیان کرتے ہیں. ہر سال حضرت شیخ بابا کے مزار پر عرس منعقد ہوتا ہےجس موقع پر بھی مختلف علماء آتے ہیں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد اس میں شرکت کرتی ہیں جس میں بڑی تعداد میں مہمان بھی شامل ہوتے ہیں.

دو مشہور بزرگان دین کے مزارات

علاقے بھر میں تور ڈھیر کی پہچان کی شاید بڑی وجہ یہاں پر دو مشہور اولیاء کرام کے مزارات ہیں جن پر حاضری دینے کے لیے لوگوں کی کثیر تعداد حاضری دینے کے لیے آتی ہے . ان میں سے پہلا بزرگ سترویں صدی سے تعلق رکھنے والے میانگل بابا ہے جس کا مزار گاؤں کے مرکزی چوک سے مشرق کی جانب تھوڑے سے ہی فاصلے پر واقع ہے. ان کی وفات ١٧٨١ میں ہوئی تھی.

Images

وہ ایک مذھبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھےجن کا شجرہ نسب غوث اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ تک جا پہنچتا ہے. ان کے بارے میں مختلف قصّے مشہور ہیں . وو کبھی اپنی زندگی میں مردان کے نواحی گاؤں طورو میں کسی خان کے پاس دہقان کے طور پرموجود تھے کہ اس دوران ان کے ساتھ کچھ کرامات کا ظہور ہوا. ہوا کچھ یہ کہ دوسرے دہقانوں کے ساتھ وہ بھی اپنی باری پر رات کے وقت مکئی کے کھڑے فصل کی نگرانی کرتے تھے. وہ چونکہ ہر وقت یاد الہی میں مشغول رہتے تھے اور فرح داری کی طرف کم دھیان دیتے تھے جس وجہ سے کبھی اس کے ساتھیوں نے خان کو شکایت کر دی کہ وہ اپنے فرائض سہی طور سے انجام نہیں دیتا تو اس کے بعد جب میاں گل بابا کی باری آئی اور وہ اس رات بھی پچھلا رویہ اختیار کئے ہوۓ تھے اور گیدڑوں کی طرف دھیان نہیں دیا تھا تو جونہی صبح ہو گئی تو گیدڑوں کی ایک جم غفیرمکئی کے پودوں کے ساتھ یوں کڑھی ہوئی تھی کہ گویا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گیے ہو. اس منظر سے لوگوں کو اس صاحب کے مقام کا علم ہوا.

Images

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پھر اسی خان ہی نے میاں گل بابا کو یہاں تور ڈھیر میں تحفے کے طور پر ایک اچھا خاصا رقبہ سیرئی کی شکل میں دیا تھااور شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی تور ڈ ھیر میں سیرئی نامی ایک مسجد ااور اسی نام ہی کا ایک مقبرہ موجود ہے اور مزید یہ کہ ان دونوں کے بیچوں بیچ میاں گل بابا کی ہی اولاد آباد ہیں.
میاں گل بابا کے ساتھ ہتھیلی پر سرسوں کے بیج اگانے کو بھی منسوب کیا جاتا ہے اور تور ڈھیر کے عوام ایک بات اپنے روز مرہ زندگی میں یہ کرتے ہیں، جب وہ کسی کو جلدی کرنے سے باز رکھنے کا کہتے ہیں ، کہ کیا تم میاں گل بنے جا رہے ہو سرسوں کے بیج کو ہاتھ میں اگاتے ہو. تو اس میں یہ بات پنہاں دکھائی دیتی ہے کہ گویا میاں گل بابا کے ساتھ اس قسم کا واقعہ کہیں ضرور پیش آیا ہوگا . میاں گل بابا کے مزار کے اوپر ایک شایان شان گنبد بیسویں صدی کے پہلے یا دوسرے عشرے میں کہیں تعمیر کی گئی . کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیرموجودہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کسی صاحب تمول فرد نے کرائی تھی جو کہ اپنے کسی جلد مرض سے صحت یاب ہونے کے لیے یہاں آئے تھے اور رب ذوا لجلال نے اس کی دعا قبول کر لی تھی . آج بھی جلدی امراض سے شفا یابی اور دوسرے مرادیں مانگنے کے لیے لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں، دربار الہی میں دعا کرتے ہیں اور میاں گل بابا کے اولاد میں سے جو متولی مزار پر موجود ہوتا ہے، ان سے تیل وغیرہ بھی دم کرکے لے جاتے ہیں. علاقے کے روایات کے مطابق میاں گل بابا کی اولاد نے مزار کی خدمت باہم تقسیم کر لی ہے اور ایک فرد کی باری تین مہینیں بعد آتی ہے.

Images

شیخ بابا

دوسرے مشہور بزرگ جن کی قبرتور ڈھیر میں موجود ہے وہ نوشہرہ کی مشھور سکھوں کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی میں زخمی ہو گۓ تھے اور بعد ازاں وفات پا گئے تھے. یہ لڑائی پیر سباق کےمقام پر لڑی گئی تھی. شیخ بابا کو بونیر کے علاقے طوطا لئ میں منتقل کر دیا گیا تھا. لوگوں نے ان کے بیان کو نقل کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے زخمی ہونے سے پہلے کئی سکھوں کو موٹ کے گھاٹ اتار دیا تھا.
شیخ بابا کے والد صاحب کا نام حافظ شاہ بابا تھا جن کی قبر بھی تور ڈھیر میں واقع ہے اور اس مناسبت سے اس مقبرے کا نام گڑھی شاہ بابا پڑ گیا ہے. وہ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ مرہٹوں کے خلاف لڑی جنگ میں شرکت کر چکے تھے.
شیخ بابا کا گھرانہ ایک مذہبی گھرانہ تھا ور انہوں نےاچھی خاصی دینی تعلیم حاصل کی تھی. انہوں نے ایک کتاب "مرتہ الاولیا " فارسی زبان میں لکھی جس پر بعد میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارسی ایک طالب علم نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا.
اس کتاب کے ابتدائی صفحات میں لکھا گیا ہے کہ حضرت شیخ بابا کی پیدائش مشرق کی جانب واقع کنڈہ نامی گاؤں میں ہوئی تھی. شاید یہ خاندان اس وقت وہاں رہائش پذیر تھا. شیخ صاحب کی تربیت اولیاء اور بوزرگوں کی سوہ بات میں ہوئی تھی. ان کی اولاد اب بھی تور ڈھیر میں آباد ہے اور مذہب سے لگاو اب بھی ان کے کرداروں کا خا صہ ہے.