تعلیم کی صورتحال

Images

تورڈھیر کے عوام و خاص تعلیم کی اہمیت سے واقف ہیں. اور یہاں کی شرح خواندگی کافی زیادہ ہے. یہ شاید تعلیم ہی کی بدولت ہی ہے کہ یہاں کے لوگوں کی سوچ و فکر فکر وسیع اور باہمی احترام پر مبنی ہے. یہاں کے لوگوں میں لسانیت پسندی اور قوم پرستی کے جذبات صرف سطحی حد تک ہی موجود ہیں. اور لوگ باہم ایک مشترکہ معاشرتی نظام میں زندگی جی رہے ہیں. انگریز دور میں جب پورے ملک میں جدید تعلیمی نظام استوار کیا گیا تو یہاں اس گاؤں میں بھی ١٨٩٥ میں ایک اسکول قایم کیا گیا. اس اسکول نے ١٩٢٧ میں کہیں مڈل کا درجہ حاصل کر لیا اور ١٩٥٢ میں اس کو کا درجہ دیا گیا.

Images

اور یہ لوگوں کے آگے بڑھنے کے لیے ایک سنگ میل تھا. یہ اسکول موجودہ تحصیل لاہور میں واحد ہائی اسکول تھا اور تمام نزدیکی گاوؤں کے طلبہ بھی کی سالوں تک یہاں رہے. بیکا، لاہور، نبی، ہریان، اور جهاںگیرہ، الہ ڈھیر ، جلبئی ، جلسئی ان تمام گاوؤں کے طلبہ یہاں تعلیم کی سہولت سے مستفید ہوتے رہے تاوقت یہ کہ ان گاوؤں میں اپنے اپنے ہائی اسکول قائم ہوۓ . جلبئی میں ہائی اسکول ١٩٨٢-٨٣ میں قائم ہوا جہانگیرہ کے طلباء کم از کم ١٩٨٠ تک یہاں آتے رہے جس سال یہاں اسکول کے ساتھ کہیں، جہانگیرہ کے ایک طالب علم کا قتل ہوا جس جرم کے پاداش میں پھر دو لڑکوں کو پھانسی بھی دی گئی تھی. اب بھی نۓ نہر اور فوجی کارن کمپلیکس کے بالائی علاقے کے بانڈہ جات کےکچھ طالب علم تور ڈھیر کے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں. تانو کے گاؤں میں ہائی اسکول کا قیام ١٩٩٠ کے لگ بھگ میں عمل میں آیا . بازار گاؤں کے طالب علم ٢٠٠١ تک یہاں آتے رہے اور اسی سال وہاں پھر ہائی اسکول وجود میں آیا. اسطرح جلسی ، مانکی، بیکا، اور نبی ہریان گاوؤں کے طالب علم بھی یہاں آتے رہے اور تعلیم حاصل کرتے رہے اور ابھی وہاں اپنے ہائی اسکول موجود ہیں. جبر، روزی آباد اور الہ ڈھیر کے طالب علم اب بھی یہاں آتے ہیں.

Images

٢٠٠٤ میں تور ڈھیر کے اس وقت کے مڈل اسکول نمبر ١ اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا اور اسطرح یہاں ہائی اسکول کے تعداد دو ہو گئی. لڑکیوں کی تعلیم کے یہاں ایک ہائی اسکول موجودہے اور طلبات کی ایک بری تعداد روزانہ مانکی کی گرلز ڈگری کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتی ہیں.اک وقت میں بات ہو رہی تھی کہ یہاں گرلز کالج قائم ہو جائے گا لیکن پھر وو کالج تو مانکی میں قائم کیا گیا لیکن ابھی تک یہاں سیکنڈری اسکول بھی قائم نہیں ہوا ہے جس کی یہاں بڑی اشد ضرورت ہے.

Images

پرائمری اور سیکنڈری سطح کی تعلیم کے لیے گاؤں میں کئی ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی کام کر رہے ہیں جن میں سے حرا ہائی اسکول اینڈ کالج، قائد انٹرنیشنل ماڈل اسکول، اقرا اسکول اینڈ کالج، ملّت پبلک اسکول اینڈ گرلز اکیڈمی، تورڈھیر ماڈل اسکول اینڈ گرلزاکیڈمی کے نام قابل ذکر ہیں.چونکہ سرکاری سچولوں پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور اور بھی کئی وجوہات کی وجہ سے عوام کا ان پر اعتماد کم ہے اس لیے یہ پرائیویٹ ادارے پچھلے دس برس کے اندر کافی اہمیت حاصل کر گۓ ہیں اور اوپر بیان کیے گئے سکولز کے علاوہ بھی آٹھ دس کے قریب نجی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں. جن کے نام برائٹ ایجوکیشن اکیڈمی، جونیئر سکالرز اکیڈمی، برلینٹ سکالرز اکیڈمی،عمر شہید اسکول، الرحیم انٹرنیشنل ماڈل اسکول،سپیرئیر سائنس سکول وغیرہ شامل ہیں.

Images

میٹرک کے بعد لڑکے مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج لاہور، گورنمنٹ خوشحال خان ڈگری کالج اکوڑہ خٹک، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ شاہ منصور صوابی جاتے ہیں اور تعلیم کی فیض یاب ہوتے ہیں.جن طلبا کے مارکس اچھے ہوتے وہ اسلامیہ کالج پشاور، ایڈورڈز کالج پشاور یا راولپنڈی کے کالجز کا رخ بھی کرتے ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں. یونیورسٹی آف صوابی کا مرکزی کیمپس جو کہ تور ڈھیر سے ١٣ کلومیٹر کے فاصلے پر انبار نامی گاؤں میں واقع ہے میں بھی یہاں طلبا کی ایک خاطر خواہ تعداد روزانہ کی بنیاد پر جاتی ہے اور تعلیم کی دولت سے فیضیاب ہوتی ہے. مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی جو کہ یہاں سے ٤٥-٥٠ کلومیٹر کے فا صلے پر واقع ہے، میں بھی کافی تعداد میںیہاں کے طالب علم مختلف گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں.